جمعہ 6 نومبر 2026 - 15:33
حقیقی ایمان کا اظہار انسان کے کردار اور عمل سے ہوتا ہے؛ آغا سید حسن موسوی الصفوی

حوزہ/ انجمن شرعی شیعیان جموں و کشمیر کے صدر حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن موسوی الصفوی نے مرکزی امام باڑہ بڈگام میں خطبۂ جمعہ دیتے ہوئے کہا کہ ایمان محض زبانی دعوے کا نام نہیں، بلکہ قلبی یقین، زبانی اقرار اور عملی کردار کا مجموعہ ہے۔ انہوں نے حضرت ابو طالبؑ کے ایمان و مقام کے بارے میں شکوک و شبہات کو مستند تاریخی روایات اور علمی شواہد کی روشنی میں رد کرنے پر بھی زور دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انجمن شرعی شیعیان جموں و کشمیر کے صدر حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن موسوی الصفوی نے مرکزی امام باڑہ بڈگام میں خطبۂ جمعہ کے دوران ایمان کی حقیقی حقیقت اور اس کے عملی تقاضوں پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایمان محض زبانی دعوے یا اعتراف کا نام نہیں، بلکہ یہ قلبی یقین، زبانی اقرار اور عملی کردار کا ایک جامع مجموعہ ہے، جس کا اظہار انسان کے عقائد، اخلاق اور روزمرہ زندگی کے تمام پہلوؤں میں ہونا چاہیے۔

حقیقی ایمان کا اظہار انسان کے کردار اور عمل سے ہوتا ہے؛ آغا سید حسن موسوی الصفوی

امام موسیٰ کاظمؑ کی ایک بامعنی حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے آغا حسن نے وضاحت کی کہ ایمان کے تین بنیادی پہلو ہیں، دل سے تصدیق، زبان سے اقرار اور اعضا و جوارح کے ذریعے عملی اظہار۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی مومن وہی ہے جس کا ایمان اس کے کردار اور طرز عمل سے نمایاں ہو۔ محض ایمان کا دعویٰ کرنے سے انسان اس کی حقیقی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتا، بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی پوری زندگی کو احکام الٰہی کے تابع بنائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انسانی جسم کا ہر عضو اپنی جگہ ایک ذمہ داری اور امانت رکھتا ہے۔ آنکھ، کان، زبان، ہاتھ، پاؤں اور دیگر اعضا و جوارح کو ان حدود میں استعمال کرنا ضروری ہے جن کا تعین اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ زبان سے لے کر نگاہ اور دیگر جسمانی صلاحیتوں تک، ہر چیز کے استعمال میں تقویٰ، پاکیزگی اور دینی حدود کی پاسداری ناگزیر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایمان کے بھی مختلف درجات اور مراتب ہیں اور انسان کا روحانی مقام اس کے دعوؤں سے نہیں بلکہ اس کے عقیدے کی پختگی، اعمال کی پاکیزگی اور عملی وابستگی سے متعین ہوتا ہے۔

حقیقی ایمان کا اظہار انسان کے کردار اور عمل سے ہوتا ہے؛ آغا سید حسن موسوی الصفوی

خطبۂ جمعہ کے دوران آغا حسن نے حضرت ابو طالبؑ کی شخصیت، ایمان اور مقام و مرتبے کے حوالے سے بھی گفتگو کرتے ہوئے ان کے ایمان کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوششوں کو مسترد کیا۔ انہوں نے امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالبؑ سے منسوب تاریخی روایات کا حوالہ دیتے ہوئے سلسلۂ نسب رسول اکرمؐ کے تقدس اور توحید سے اس کی وابستگی کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت ابو طالبؑ کی عظیم شخصیت اور مقام کو تاریخی حقائق، مستند روایات اور علمی و تحقیقی شواہد کی روشنی میں سمجھنے کی ضرورت ہے، نہ کہ بے بنیاد الزامات اور غلط فہمیوں کی بنیاد پر ان کے بارے میں کوئی رائے قائم کی جائے۔

انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ حضرت ابو طالبؑ کی حیات مبارکہ، دینی خدمات اور مقام و مرتبے سے متعلق موضوعات کو سنجیدہ علمی اور تحقیقی انداز میں زیر بحث لایا جانا چاہیے تاکہ تاریخی حقائق کو درست تناظر میں سمجھا جاسکے۔

حقیقی ایمان کا اظہار انسان کے کردار اور عمل سے ہوتا ہے؛ آغا سید حسن موسوی الصفوی

اپنے خطاب کے اختتام پر آغا حسن نے اہل ایمان کو تلقین کی کہ وہ اپنے عقائد و اعمال میں پختگی پیدا کریں، تعلیمات اہل بیتؑ پر ثابت قدم رہیں، اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں دینی ذمہ داریوں کو مقدم رکھیں اور معاشرے میں اتحاد، اخوت اور باہمی تعاون کو فروغ دیں۔

خطبۂ جمعہ کا اختتام امت مسلمہ کی سربلندی، اتحاد و استحکام، اہل بیتؑ کے مقام و مرتبے کی بلندی، مؤمنین کی کامیابی اور جاری دینی و اجتماعی منصوبوں کی تکمیل کے لیے خصوصی دعاؤں پر ہوا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha